اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کے مطابق یمن کے نہتے شہریوں پرحملے میں سعودی عرب کےساتھ اردن کی فوج بھی شامل ہوگئی ہے۔ ریڈیو تہران نے اپنے ذرائع کے حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اردن کے چھاتہ بردار فوجی دستوں نے دوسری مرتبہ جبل الدخان کے علاقے میں دراندازی کرنے کی کوشش کی لیکن الحوثی مجاہدین نے انہيں ماربھگایا۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کی فوج نے بھی جبل الدخان کو واپس لینے کی کوششیں کی ہیں لیکن اسے ابھی تک الحوثی مجاہدین کے ہاتھوں بهاری شکست برداشت کرنی پڑی ہے جس کے بعد سعودی عرب نے اردن کو اپنی مدد کے لئے بلایا۔ شیعه الحوثی تحریک کے ہاتھوں سعودی چھاتہ بردار فوجیوں کے کمانڈر محمد العمری کے ہلاک ہونے اور کئي سعودی فوجیوں کے زخمی اور گرفتار ہونے کے بعد سعودی عرب نے اردن کو جبل الدخان میں دراندازی کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی ۔ الحوثی نوجوانوں کے ہاتھوں سعودی عرب، یمن اور اردن کی فوجوں کی شکست کے بعد اس تحریک کے مقابلے میں ان ملکوں کی فوجوں کی طاقت کا بھرم ٹوٹ گيا ہے۔ یاد رہے که یمن کے شمالی علاقوں کے عوام حکومت کی امتیازی پالیسیوں کےخلاف احتجاج کررہےہیں ۔ شمالی علاقوں کے باشندے اپنے اقتصادی سماجی اورسیاسی حقوق کا مطالبہ کررہے ہيں اور اسی مطالبے کے عوض انہیں یمنی فوج سمیت دیگر عرب ممالک کی افواج کے حملوں کا سامنا ہے. دریں اثناء الحوثی مجاہدین کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے توسط سےیمن میں مداخلت کررہا ہے۔محمد عبدالسلام نے کہا کہ جلد ہی سعودی مداخلتوں کے مزید ثبوت پیش کردئیے جائیں گے. محمد عبدالسلام نے صوبہ صعدہ میں یمن کی فوج کی اسٹریٹجک شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ آج یمن کی خانہ جنگی کی شدت میں جوکمی آئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مجاہدین نے یمنی فوج کے سوسے زائد ٹھکانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اوراسے بھاری جانی ومالی نقصان پہنچایا ہےدریں اثناء ماہرین کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت، الحوثی گروہ کے ساتھ فائربندی کرنا چاہتی تھی مگرسعودی عرب اسے ایسانہيں کرنے دے رہا ہے. بشکریہ از ریڈیو تہران
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 172561
ذرائع کے مطابق الحوثی مجاہدین سعودی اور اردنی افواج کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے انہیں بھاری شکست سے دوچار کردیا ہے۔